"جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے


حدیث مبارک
"جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے گویا اس نے آدھی رات عبادت کی اور جو فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے گویا اس نے پوری رات عبادت کی۔"
 (مسلم، # 1491)
حدیث مبارک
"جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے، اللہ تعالی جنت میں اسکی مہمانی کا سامان کرے گا، وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔"
 (بخاری، # 662)

Published from Blogger Prime Android App
        *بسم الله الرحمن الرحيم* 

       

 *نماز والی جگہ پر بیٹھے رہنےکی فضیلت !*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص نماز کی وجہ سے جب تک کہیں ٹھہرا رہے گا اس کا یہ سارا وقت نماز میں شمار ہو گا اور ملائکہ اس کے لیے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اور اس پر اپنی رحمت نازل کر (اس وقت تک) جب تک وہ نماز سے فارغ ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائے یا بات نہ کرے۔“*🔹
صحیح بخاری 3229

 حـــــــدیثِ رســـولﷺ

  *(۵۰۱۵)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ مِنْ قَبْلِیْ)*


☜ *سیدنا جابر  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں،جبکہ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں۔*
 

    *مسنــد احــمد  5015*

 *❣حـــــــدیثِ رســـولﷺ

*(۵۰۱۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ  الرُّئُ وْسِ قَبْلَکُمْ، کَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَائِ فَتَأْکُلُہَا۔)) کَانَ یَوْمَ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِی الْغَنَائِمِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ، فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا} [الانفال: ۶۸،۶۹]*


 سیدنا ابو ہریرہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:*

📜     ```تم سے پہلے کالے سروں والی قوم یعنی بنو آدم کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، بلکہ ان کے ہاں یوں ہوتا تھا کہ آگ آسمان سے نازل ہوتی تھی اور غنائم کو کھا جاتی تھی۔  جب بدر والے دن لوگوں نے غنیمتیں حاصل کرنے میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ، فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا}  اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمھیں کوئی بڑی سزا ہوتی، پس جو کچھ حلال اور پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ۔  (سورۂ انفال: ۶۸، ۶۹)``` 
 

    *مسنــد احــمد  5016*

 
❣حـــــــدیثِ رســـولﷺ❣

🌹💦☜  *(۵۰۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ لَبِیْدٍ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ کَابُلَ فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِیْمَۃً، فَانْتَہَبُوہَا فَأَمَرَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ مُنَادِیًا یُنَادِی إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  یَقُولُ: ((مَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً فَلَیْسَ مِنَّا۔)) فَرُدُّوا ہٰذِہِ الْغَنِیْمَۃَ فَرَدُّوہَا فَقَسَمَہَا بِالسَّوِیَّۃِ۔*

 *ابو لبید کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کے ساتھ کابل میں جہاد کیا، جب لوگوں نے غنیمت حاصل کی تو انھوں نے تقسیم سے پہلے اس کو لوٹنا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  نے ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:*

📜     ```جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔  لہذا یہ غنیمتیں واپس کر دو، پس انھوں نے واپس کر دیں، پھر انھوں نے برابری کے ساتھ ان میں تقسیم کر دیں۔``` 
 
   ♻ *مسنــد احــمد  5017*

     

Comments