مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،" آج کچھ ھونے والا ھے

مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،" آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رہی تھی ۔اسکی بیوی " ھندہ " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئی تھی
Published from Blogger Prime Android App
" کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ "
" ہوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا۔
مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا
اچانک اسکی نظر شہر سے باھر ایک وسیع میدان پر پڑی ،
ہزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی
اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ہوں
اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ہیں۔
اتنا تو وہ سمجھ ہی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رہے ہیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کے لئے  ہی آیا ھے
وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ہیں ؟
وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا
کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا۔
یہ اسکے اپنے ہی لوگ تھے جو مسلمان ھوچکے تھے اور مدینہ ہجرت کرچکے تھے
اس کا دل ڈوب رہا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ہے۔
اور یقیناً " مُحمّد ﷺ اپنے جانثاروں کیساتھ مکہّ آپہنچے تھے "
وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ہی رھا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی۔
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔
لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا
اور اب اسے " بارگاہ محمّد ﷺ میں لے جا رہے تھے "
اسکا ایک ایک قدم کئی کئی من کا ھوچکا تھا۔
ھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرہے تھے۔
جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھیں۔
اسے یاد آرھا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا " محمّد کو قتل کرنے کے لئے "
کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔
" یہ مسلمان ھمارے غلام اور باغی ہیں انکو ہمیں واپس دو "
کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ہار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارہا تھا
اسے یقین تھا کہ ۔۔۔
اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے "دہشت گرد " کو فوراً تہہ تیغ کردیا جاۓ گا ۔
اُدھر ۔۔۔۔
" بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں اصحاب رض جمع تھے اور صبح کے اقدامات کے بارے میں مشاورت چل رہی تھی کہ کسی نے آکر ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی۔
" اللہ اکبر " خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا
ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی۔
خیمہؑ میں موجود عمر ابن خطاب اٹھ کر کھڑے ہوۓ اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائی جوش کے عالم میں بولے ۔
اس بدبخت کو قتل کردینا چاہیے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رہا ہے۔"
چہرہ مبارک رحمت للعالمین ﷺ پر تبسّم نمودار ہوا
اور انکی دلوں میں اترتی ہوئی آواز گونجی۔
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو "
عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گئے لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کرڈالتے
اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی
اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ہاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ہوۓ تھے۔
چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی
اور اسکی آنکھوں میں موت کے ساۓ لہرا رہے تھے
لب ہاۓ رسالت مآب ﷺ وا ہوۓ ۔۔
اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہؑ سنا
" اسکے ہاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "
ابوسفیان ہارے ہوۓ جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہؑ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔
پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ہوا تو نظر اٹھا کر خیمہؑ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
عمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھیں۔
ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اس کے للئے افسوس کا تاثر تھا۔
عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ہمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھا۔
علیؑ ابن ابوطالبؑ کا چہرہ سپاٹ تھا۔
اسی طرح باقی تما اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھر گئی۔
جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراہٹ تھی
" کہو ابوسفیان ؟ کیسے آنا ہوا ؟؟ "
ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ہی نہیں رہی تھی۔
بہت ہمت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں ؟؟ "
عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوۓ
" یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری کررہا ہے ، جان بچانے کے لئے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے ، مجھے اجازت دیجئے ، میں آج اس دشمن ازلی کا خاتمہؑ کر ہی دوں " انکے مونہہ سے کف جاری تھا ۔۔۔
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا۔
" بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاہتے ہو ؟ "
جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں میں سمجھ گیا ہوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ہے اور آپ کا خدا بھی سچّا ہے ، اسکا وعدہ پورا ھوا ۔ میں جان گیا ہوں کہ صبح مکہّ کو فتح ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا "
چہرہؑ رسالت مآب ﷺ پر مسکراہٹ پھیلی ۔۔
" ٹھیک ہے ابوسفیان ۔۔
تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ہوں جاؤ تم آزاد ہو ، صبح ہم مکہّ میں داخل ہوں گے  انشاء اللہ۔
میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ہمارے خلاف سازشیں ہوتی رہیں ، جاۓ امن قرار دیتا ہوں ، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ہے۔"
ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رہی تھیں۔
" اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ہوگیا اسکو امان ہے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ہے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رہا اسکو امان ہے ۔
جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ھماری آمد کا انتظار کرو۔
اور کہنا مکہّ والوں سے کہ ھہاری کوئی تلوار میان سے باہر نہیں ہوگی ، ہمارا کوئی تیر ترکش سے باہر نہیں ھوگا
ہمارا کوئی نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ہوگا جب تک کہ کوئی ہمارے ساتھ لڑنا نہ چاہے "۔
ابوسفیان نے حیرت سے محمّد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ہوۓ ہونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔
" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہُ و رسولہُ "
سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑہے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا
مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ہمارے دینی بھائی ہو گئے، تمہاری جان ، مال ہمارے اوپر ویسے ہی حرام ہوگیا جیسا کہ ہر مسلمان کا دوسرے پر حرام ہے ، تم کو مبارک ہو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ "
ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔
یہ وہی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کے لئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاہتا تھا
اب وہی اسکو گلے سے لگا کر بھائی بول رہا تھا ؟
یہ کیسا دین ہے؟
یہ کیسے لوگ ہیں ؟
سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باہر نکل گیا۔
" وہ دہشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ہوا جارہا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ہر فرد ، ہر جنگجو ، ہر سپاھی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کے دشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کررہے تھے ، اسے مبارکباد دے رہے تھے ، خوش آمدید کہہ رہے تھے ۔۔
اگلے دن ۔۔۔
مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا
مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ہوچکا تھا۔
کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا
لشکر اسلام کو ہدایات مل چکی تھیں
کسی کے گھر میں داخل مت ہونا
کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا
کسی کا پیچھا مت کرنا
عورتوں اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانا
کسی کا مال نہ لوٹنا
بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتےجارہے تھے۔
" مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔
آج تم سب کے لئےعام معافی کا اعلان ہے ۔۔
کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جاۓ گی ،
جو اسلام قبول کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے۔
جو نہ کرنا چاہے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ہے
سب کو ان کے مذہب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ہوگی
صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ہوگی
کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا
کسی کو اسکی ارضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا
غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے
اے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! "
ہندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رہی تھی
اسکا دل گواہی نہیں دے رہا تھا کہ " حضرت حمزہ " کا قتل اسکو معاف کردیا جاۓ گا
لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔
" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ہوجائیں گی "
مکہّ فتح ھوچکا تھا
بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہاۓ ، بنا تیر و تلوار چلاۓ ،
لو گ جوق در جوق اس آفاقی مذہب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ہورہے تھے
اور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا
اس ہجوم میں ھندہ بھی شامل تھی "
یہ ہوا کرتا تھا اسلام ۔۔ یہ تھی اسکی تعلیمات ۔۔ یہ سکھایا تھا میرے رسول ﷺصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیاری ذات نے 
اور ہم
شور  ہے،   ہو  گئے  دنیا  سے  مسلماں  نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
وضع  میں  تم  ہو نصاری  تو تمدن  میں  ہنود
یہ  مسلماں  ہیں! جنھیں  دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی  ہو
تم  سبھی  کچھ  ہو ، بتاؤ  تو  مسلمان   بھی  ہو!

Comments