ایک صحابی نے رسول صلی اللّٰه  علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا ایک پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان بھائی کے لیے پانچ باتیں واجب ہیں ۔ سلام کا جواب دینا ‘ چھینک آنے پر دعا دینا ‘ دعوت قبول کرنا ‘ بیمار پرسی کرنا اور جنازے میں شریک ہونا ۔‘‘  
آداب و اخلاق کا بیان#5030
Published from Blogger Prime Android App
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا*

*تکلیف دل باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے☞◆🤲🏻💐❤️*

*صحیح مسلم 7080 بروایت حضرت أبو موسى رضي الله عنه*

*رسول الله ﷺ نے فرمایا:*

*"آدمی اپنے دوست کے "دین" پر ہوتا ہے. لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے."*

ابوداؤد 4833

نبیﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے، تو خوب اچھی طرح وضو کرے؛ پھر یہ کہے: میں گواہی دیتا ہوں؛ کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں، اور محمدﷺ اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں؛ تو اُس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جِس سے چاہے داخل ہو جائے!"
(صحيح مسلم : 553)

[ جنت میں درخت ]

ایک صحابی نے رسول صلی اللّٰه  علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا ایک پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں 

اس پر جب پھل لگتا ہے اور ٹوٹ کر گرتا ہے تو میرے بچے اٹھا لیتے ہیں ہم غریب ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آتا ہے اور آکر میرے بچوں کے منہ میں سے کھجور کو نکال لیتا ہے

 آپ اس کو کہیں کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچوں پر اتنی زیادتی نہ کرے۔

آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا وہ منافق تھا۔ 
آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 ایک سودا کرتے ہو؟ اس نے پوچھا کون سا سودا؟
 آپ صلی اللّٰه  علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
 یہ کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے کر دوں گا۔ 

وہ کہنے لگا یارسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یہ اصل میں میرے بچوں کو بہت پسند ہے اگر کوئی اور کھجور ہوتی تو میں دے دیتا تو یہ میری معزرت ہے یہ کہہ کر چلا گیا۔

ایک صحابی بیٹھے تھے ابو دحداح وہ کہنے لگے یارسول اللّٰه  صلی اللّٰه  علیہ وآلہ وسلم اگر میں وہ کھجور کا درخت لے دوں تو آپ مجھے جنت میں کھجور کا درخت لیں دیں گے؟ 

آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو مجھے لے دے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے دوں گا۔

 وہ صحابی اٹھ کر اس کے پیچھے گیا اسے کہا اے بھائی بات سنو کھجور کا درخت کتنے کا بیچو گے؟ 
اس نے کہا میں نے اللّٰه  کے نبی کو نہیں دیا تمہیں
 کیسے دے دوں۔

انہوں نے کہا اچھا بھائی منہ سے بول کتنے پیسے لو گے تو اس نے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ اپنا سارا باغ مجھے دے دے اور یہ ایک کھجور کا درخت لے لو 

اور باغ میں 600 کھجور کے درخت اور یہ کھجور کا درخت کسی اور کو دینا ہے وہ کہنے لگے پکے ہو سودے سے پھرو گے تو نہیں؟ 

اس آدمی نے کہا میں پاگل ہوں کہ میں مکر جاؤں گا مجھے 600 کھجور کے درخت مل رہے ہیں۔ 
انہوں نے کہا مجھے منظور ہے کھجور کا درخت
 میرا اور سارا باغ تیرا۔

ابودحداح رضی اللہ عنہ گئے اور باغ کے باہر کھڑے ہوگئے اندر بھی داخل نہ ہوئے اور جیب میں جو پیسے تھے وہ بھی زمین کے اندر ڈال دیے کہ یہ بھی باغ کی کمائی ہے

 اور باغ کا جنت کے بدلے سودا کر دیا ہے اللّٰه  کے نبی سے ۔۔۔

اور اپنی بیوی کو آواز دی باہر آؤ یہ باغ اب ہمارا نہیں ہے اس باغ کا اللّٰه کے نبی صلی اللّٰه  علیہ وسلم کے ساتھ سودا کر آیا ہوں 

بیوی نے جب اللّٰه  کے نبی ﷺ کا نام سنا تو وہ بھی بچوں کو لے کر باغ سے باہر آگئی اور کہا تم نے بہت خوبصورت سودا کیا۔

سیدنا ابو دحداح اللّٰه کے نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا یارسول اللّٰه ﷺ میں نے سودا کر لیا ہے

آپ ﷺ نے فرمایا:
 ابو دحداح کیسے کیا سودا؟

 کہا یارسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم سارا باغ ددےیا اور وہ کھجور کا درخت لے لیا

 اللّٰه کے نبی ﷺ نے فرمایا:
پھر میرا سودا بھی بدل گیا اور فرمایا میرے ساتھی میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں
اللّٰه  نے تیرے لیے جنت میں ایک محل نہیں سینکڑوں محل بنا دیے ہیں اور ایک باغ نہیں ہزاروں باغ تیرے لیے تیار کر دیے ہیں۔سبحان اللّٰه

اور جب سیدنا ابودحداح فوت ہوئے تو
 اللّٰه کے نبی ﷺ نے فرمایا: 

میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ایک لاکھ جنت کے کھجور کے درخت ابو دحداح کے جنازے کے اوپر جھکے ہوئے ہیں)۔سبحان اللّٰه

(مسند عبد بن حمید: 1334) 
(ابن حبان: 71) 
(الطبرانی: 763) 
(الحاکم: 2/20 )
(شعب الایمان: 3451) م

حمد شعیب عثمان

Comments

Popular posts from this blog

ایک صحابی نے رسول صلی اللّٰه  علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا ایک پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام ! حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے