یہ روزہ مکمل نہ کرنے والے کی سزا ہے ؛ تو اس کی کیا سزا ہو گی جو ویسے ہی روزہ چھوڑ دیتا ہے
یہ روزہ مکمل نہ کرنے والے کی سزا ہے ؛ تو اس کی کیا سزا ہو گی جو ویسے ہی روزہ چھوڑ دیتا ہے
سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

میں سویا ہوا تھا کہ (خواب میں) میرے پاس دو آدمی آئے اور مجھے میرے بازو سے پکڑ کر ایک دشوار گزار پہاڑی پر لے گئے اور کہا: چڑھیں! میں نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا! وہ کہنے لگے: آپ چڑھیے، ہم آپ کیلیے چڑھنا آسان کر دیں گے*
ثمَّ انطلَق بي، فإذا أنا بقومٍ مُعلَّقينَ بعراقيبِهم، مُشقَّقةٍ أشداقُهم، تسيلُ أشداقُهم دَمًا !*
پھر وہ مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لے گئے جنہیں ان کی ایڑھیوں کے بل لٹکایا گیا تھا، اور ان کی بانچھیں چیری ہوئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا!*
میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا:*
هؤلاءِ الَّذينَ يُفطِرونَ قبْلَ تحِلَّةِ صومِهم!
*یہ افطاری کا وقت ہونے سے پہلے روزہ افطار کرنے والے لوگ ہیں ..."*
یعنی وہ لوگ فرضی روزہ رکھتے تھے مگر درمیان میں ہی بغیر عذر کے جان بوجھ کر افطار کر لیتے تھے (روزہ توڑ دیتے تھے)
صحيح ابن حبان : 7491 ، السنن الكبرى للنسائي : 3286 ، صحيح ابن خزيمة : 1986
امام البانی رحمہ اللہ اس حدیث کو سلسلہ صحیحہ میں درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں :*
یہ ایسے شخص کی سزا ہے جس نے روزہ تو رکھا لیکن اسے وقت سے پہلے ہی کھول لیا! تو اس شخص کا حال کیا ہو گا جس نے سرے سے روزہ رکھا ہی نہیں!! ہم اللہ تعالی سے دنیا و آخرت میں سلامتی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں.
سلسلة الأحاديث الصحيحة 3951
Comments
Post a Comment