روزہ کی حالت میں خواتین کے مخصوص مسائل :*

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن ۔۔۔۔۔۔ اَمَّابَعد !

ماہ رمضان ؛ فضائل و مسائل
کل 50 قسطیں ہیں قسط نمبر 17
Published from Blogger Prime Android App
روزہ کی حالت میں خواتین کے مخصوص مسائل :*

1- روزہ میں الٹی آجانا :
 اگر کسی عورت یا مرد کو قے آگئی تو روزہ نہیں گیا، خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اور اگر خود اپنے اختیار سے قے کی اور منہ بھر کر ہوئی تو روزہ ٹوٹ گیا، ورنہ نہیں۔
●  اگر روزہ دار اچانک بیمار ہوجائے اور اندیشہ ہو کہ روزہ نہ توڑا تو جان کا خطرہ ہے، یا بیماری کے بڑھ جانے کا خطرہ ہے، ایسی حالت میں روزہ توڑنا جائز ہے۔

*2- حاملہ عورت کا روزہ :
 اسی طرح اگر حاملہ عورت کی جان کو یا بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے تو روزہ توڑ دینا دُرست ہے۔

3- مستقل بیماری کی وجہ سے اگر رمضان میں روزے نہ رکھ سکے تو قضا کرے :*
 اگر کوئی ایسی عورت یا مرد جو مستقل کسی بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکے، وہ ان کی جگہ بعد میں قضا روزے رکھ لیں، اور آئندہ بھی اگر وہ رمضان المبارک میں بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے تو سردیوں کے موسم میں قضا رکھ لیا کرے، اور اگر چھوٹے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی تو اس کے سوا چارہ نہیں کہ ان روزوں کا فدیہ ادا کردے، ایک دن کے روزے کا فدیہ صدقہٴ فطر کے برابر ہے۔

4 - دُودھ پلانے والی عورت کا روزہ کا قضا کرنا :*
ایک ایسی ماں جس کا بچہ سوائے دُودھ کے کوئی غذا نہ کھاسکتا ہو، اگر وہ ماں یا اس کا دُودھ پیتا بچہ روزے کا تحمل نہیں کرسکتے تو وہ عورت روزہ چھوڑ سکتی ہے، بعد میں قضا رکھ لے۔

5- مجبوری کے ایام میں عورت کو روزہ رکھنا جائز نہیں :*
رمضان میں عورت جتنے دن مجبوری میں ہو، ان مجبوری (حیض و نفاس) کے دنوں میں عورت کو روزہ رکھنا جائز نہیں، بعد میں قضا رکھنا فرض ہے۔

6- دوائی کھاکر ایام روکنے والی عورت کا روزہ رکھنا :*
 رمضان شریف میں بعض خواتین دوائیاں وغیرہ کھاکر اپنے ایام کو روک لیتی ہیں، اس طرح رمضان شریف کے پورے روزے رکھ لیتی ہیں، اور فخریہ بتاتی ہیں کہ ہم نے تو رمضان کے پورے روزے رکھے، تو واضح ہے کہ جب تک ایام شروع نہیں ہوں گے، عورت پاک ہی شمار ہوگی، اور اس کو رمضان کے روزے رکھنا صحیح ہوگا، رہا یہ کہ روکنا صحیح ہے یا نہیں؟ تو شرعاً روکنے پر کوئی پابندی نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ فعل عورت کی صحت کے لئے مضر ہو تو جائز نہیں!

7- روزے کے دوران اگر “ایام” شروع ہوجائیں تو روزہ ختم ہوجاتا ہے :*
 ماہِ رمضان میں روزہ رکھنے کے بعد اگر دن میں ماہواری کے شروع ہوتے ہی روزہ خود ہی ختم ہوجاتا ہے، کھولیں یا نہ کھولیں، البتہ ماہِ رمضان میں مجبوری کے تحت جو روزے رہ جاتے ہیں، تو ان کی قضا رمضان کے بعد کرلی جائے، تاہم تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے، اور قضائے رمضان کے روزوں میں تراویح نہیں ہوتی۔

8- چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا چاہے مسلسل رکھیں، چاہے وقفے وقفے سے :
جو روزے رہ گئے ہوں ان کی قضا فرض ہے، اگر صحت و قوّت اجازت دیتی ہو تو ان کو مسلسل رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو جلد سے جلد قضا کرلینا بہتر ہے، ورنہ جس طرح سہولت ہو رکھ لئے جائیں۔

9- تمام عمر میں بھی قضا روزے پورے نہ ہوں تو اپنے مال میں سے فدیہ کی وصیت کرے :*
اس مسئلہ میں عموماً ہماری بہنیں کوتاہی اور غفلت سے کام لیتی ہیں، عورتوں کے جو روزے ”خاص عذر“ کی وجہ سے رہ جاتے ہیں، ان کی قضا واجب ہے، اور سستی و کوتاہی کی وجہ سے اگر قضا نہیں کئے تب بھی وہ مرتے دَم تک ان کے ذمے رہیں گے، توبہ و اِستغفار سے روزوں میں تأخیر کرنے کا گناہ تو معاف ہوجائے گا، لیکن روزے معاف نہیں ہوں گے، وہ ذمے رہیں گے، ان کا ادا کرنا فرض ہے، البتہ اس تأخیر اور کوتاہی کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، چنانچہ عورت پر جب سے نماز روزہ فرض ہوئی ہے، اس وقت سے لے کر جتنے رمضانوں کے روزے رہ گئے ہوں، ان کا حساب لگا لیجئے اور پھر ان کو قضا کرنا شروع کیجئے، ضروری نہیں کہ لگاتار ہی قضا کئے جائیں، بلکہ جب بھی موقع ملے قضا کرتی جائے، اور نیت یوں کرے کہ سب سے پہلے رمضان کا جو پہلا روزہ میرے ذمہ ہے اس کی قضا کرتی ہوں اور اگر خدانخواستہ پوری عمر میں بھی پورے نہ ہوں تو وصیت کرنا فرض ہے کہ میرے ذمہ اتنے روزے باقی ہیں، ان کا فدیہ میرے مال سے ادا کردیا جائے، اور اگر کسی کو یہ یاد نہیں کہ کب سے اس کے ذمہ روزے فرض ہوئے تھے تو اپنی عمر کے دسویں سال سے روزوں کا حساب لگائے، اور ہر مہینے جتنے دنوں کے روزے اس کے رہ جاتے ہیں، اتنے دنوں کو لے کر گزشتہ تمام سالوں کا حساب لگالے۔

10- اگر ”ایام“ میں کوئی روزے کا پوچھے تو کس طرح ٹالیں؟*
 خاص ایام میں جب خواتین روزہ نہیں رکھتی ہیں، اس وقت ان کے لئے بھی روزہ داروں کی مشابہت رکھنا ضروری ہے تاہم چھپ کر کچھ کھاپی لیں تاکہ معلوم رہے کہ روزہ نہیں رکھا، البتہ ایسی باتیں شرم و حیا کی ہوتی ہیں، تو بہتر یہی ہے کہ گھر والوں کے ساتھ باقاعدہ سحری کرلی جائے اور اگر کوئی روزہ کا پوچھے تو بجائے یہ کہنے
کے کہ”ہمارا روزہ ہے“ کوئی ایسا فقرہ کہا جائے جو جھوٹ نہ ہو، مثلاً یہ کہہ دیا جائے کہ ہم نے بھی تو سب کے ساتھ سحری کی تھی۔
(مستفاد از فتاوی یوسفی جلد سوم)
===جاری ہیں 


*طالب دعا محمد عثمان علی

Comments

Popular posts from this blog

ایک صحابی نے رسول صلی اللّٰه  علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا ایک پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام ! حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے