اعتکاف کے معنی ہیں ٹھہرنا، رکنا، قیام کرنا۔اصطلاحا ً مسجد میں عبادت کی غرض سے ٹھہر جانے کو اعتکاف کہا جاتا۔


*🌴اعتکاف🌴*

اعتکاف کے معنی ہیں ٹھہرنا، رکنا، قیام کرنا۔اصطلاحا ً مسجد میں عبادت کی غرض سے ٹھہر جانے کو اعتکاف کہا جاتا۔
Published from Blogger Prime Android App
*¤نبیﷺ ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے تھے۔*
  (صحیح بخاری کتاب الصوم ابواب اعتکاف)
*¤ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں برابر اعتکاف فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺکی وفات ہو گئی۔ پھر آپ کی ازواج نے اعتکاف کیا۔*
(صحیح بخاری کتاب الصوم ابواب اعتکاف)۔
*¤اس وقت کو آپ ﷺ زیادہ سے زیادہ عبادت میں گزارتے تھے اور راتوں کو قیام کرتے تھے۔ ۔*
(صحیح بخاری کتاب الصوم)
*¤اس عشرے میں آپ ﷺ عبادت میں اتنی محنت کرتے جو عام دنوں میں نہ کرتے۔*
(صحیح مسلم کتاب اعتکاف )

*¤اعتکاف مسجد میں ہوتا ہے* (صحیح مسلم کتاب اعتکاف)
*¤اعتکاف کے لیے کپڑوں وغیرہ کے خیمے لگائے جانے چاہئیں ۔*
(سنن ابن ماجہ کتاب الصیام)
*¤جس میں بستر بھی بچھایا جا سکتا ہو۔۔*
(سنن ابن ماجہ کتاب الصیام)

~~بخاری و مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی وفات تک *آخری عشرے میں ہی اعتکاف* فرمایا ہے۔اور آخری عشرہ اکیسویں شب سے ہی شروع ہو جاتا لہذا *مسنون طریقہ یہی ہے کہ اعتکاف کی ابتدا آخری عشرہ شروع ہونے سے پہلے  کی جائے جو کہ بیسویں صوم کے افطار کے بعد شروع ہوتا۔*

*¤مُعْتَکِف (اعتکاف کرنے والا) بلا ضرورت باہر نہ جائے۔*  (سنن ابی داؤد، کتاب الصیام )
*¤اگر مسجد میں حوائجِ ضروریہ کا بندوبست نہیں ہے تو ان کے لیے مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔*
(سنن ابی داؤد، کتاب الصیام )
*¤معتکف سے اس کے رشتہ دار، بیوی وغیرہ ملنے آ سکتے ہیں۔*  ( صحیح بخاری کتاب الصوم)
*¤عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کا اعتکاف میں سر دھویا اور کنگھی کی۔*
(صحیح بخاری کتاب الصوم)

>>جب سر دھلوایا جا سکتا تو دھویا بھی جا سکتا۔اس لیے معتکف بوقتِ ضرورت اعتکاف کی حالت میں غسل بھی کر سکتا ہے،اگر مسجد میں انتظام ہو۔اگر ضرورت نہ ہو تو اعتکاف کا زیادہ سے زیادہ وقت  مقامِ اعتکاف میں ہی گزارا جائے۔اور اپنی جگہ سے بغیر ضرورت کے نہ ہٹے۔۔
🌹اٙلاِعْتٙکٙافُ* 

  اعتکاف کے مسائل


📌  اعتکاف سنت موکدہ کفایہ ہے اور اس کی مدت دس0️⃣1️⃣ یوم ہے۔ 

  
📌ہر مسلمان کو رمضــان  المبــارک  میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہئے۔* 

  📌اعتـکاف کے لیے فجر کی نماز کے بعد اعتـکاف کی جگہ بیٹھنا مسنون ہے۔* 

  اعتـکاف کرنے والے کی بیوی ملاقات کے لیے آ سکتی ہے اور اعتـکاف کرنے والا بیوی کو گھر تک چھوڑنے کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔* 

   مردوں کو اعتکاف مسجد میں ہی کرنا چاہیئے۔*  

  رمضان میں اعتکاف کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے۔*  

  حالتِ اعتکاف میں بیمار پرسی کے لیے جانا،جنازے میں شریک ہونا، بیوی سے مجامعت کرنا، بشری تقاضوں کے بغیر اعتـکاف کی جگہ سے باہر جانا* *منع ہے۔* 

  عورتوں کو بھی اعتکاف مسجد میں ہی کرنا چاہیئے۔* 

   اگر کسی کو اعتکاف کے لیے دس دن میسر نہ آ سکیں تو جتنے دن میسر ہوں اتنے دنوں کا ہی اعتکاف کر لینا چاہیئے حتٰی کہ ایک رات کا اعتکاف بھی درست ہے۔*

 محمد اقبال کیلانی


Comments

Popular posts from this blog

ایک صحابی نے رسول صلی اللّٰه  علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا ایک پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام ! حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے