*جو شخص جنت میں جائے گا عیش کرے گا
ناراضگی چھوڑیے صلح کیجئے!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“*🔹
«صحیح بخاری-6077»
بِســــــــــمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
*•●◉✧صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب✧◉●•*
*●✧صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدﷺ✧●*
*●✧صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہ وَاٰلِهِ وَبَارِکْ

روزہ داروں کا باب الرّیّان سے جنت میں داخلہ*
*عَنْ سَهْلٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:*
*إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا یُقَالُ لَهُ الرَّیَّانُ، یَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، لَا یَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَیْرُهُمْ. یُقَالُ: أَیْنَ الصَّائِمُوْنَ؟ فَیَقُوْمُوْنَ لَایَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَیْرُهُمْ. فَإِذَا دَخَلُوْا أُغْلِقَ، فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ.*
*(بخاري، الصحیح، 2: 671، الرقم: 1797)*
*حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:*
*جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو رَیَّان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے روز اُس سے (صرف) روزہ دار داخل ہوں گے اور اُن کے سوا اُس سے کوئی داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ (اُس دروازہ میں سے داخل ہونے کیلئے) روزے دار کھڑے ہو جائیں گے۔ اُس دروازے میں سے اُن کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ پھر جب وہ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی دوسرا اُس سے داخل نہیں ہو گا۔*
*(أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب الریان للصائمین، 2/671، الرقم: 1797، ومسلم في الصحیح، 2/808، الرقم: 1152)*
نماز قائم کریں
*☚ خــوش رہیں،آباد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ
یحیی بن یحیی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد بن زید نے خبر دی ، انھوں نے معلی بن زیاد سے ، انھوں نے معاویہ بن قرہ سے ، انھوں نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ :’’ ہر طرف پھیلی ہوئی قتل و غارت گری کے دوران میں عبادت ( پر توجہ مرکوز ) کرنا ، میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے ۔‘‘
Sahih Muslim#7400
کتاب: فتنے اور علامات ِقیامت
Status: صحیح
*📚❣حـــــــدیثِ رســـولﷺ❣📚*
💦🌹☜ *حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الْحَمَّامَاتِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.*
*اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا:*
```تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان سے حجاب کا پردہ اٹھا دیتی ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔```
🌹 *جامــع تـرمـزی 2803
📚•┈┈••●☆❣☆●••┈┈•📚
🌹•••═☆༻ ◉﷽◉ ༺☆═•••🌹
*📚❣حـــــــدیثِ رســـولﷺ❣📚*
💦🌹☜ *حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وعبد بن حميد، وغير واحد، واللفظ للحسن بن علي، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.*
*ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:*
📜 ” ```فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں جاندار مجسموں کی تصویر ہو“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔```
📜🌹 *جامــع تـرمـزی 2804*🌹📜
📚•┈┈••●☆❣☆●••┈┈•📚
🌹•••═☆༻ ◉﷽◉ ༺☆═•••🌹
*📚❣حـــــــدیثِ رســـولﷺ❣📚*
💦🌹☜ *حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاق أَخْبَرَهُ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أبِي طَلْحَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ: الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ ، شَكَّ إِسْحَاق لَا يَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ: قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.*
💦🌹☜ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے ہوں یا تصویر ہو“*
📜 ( ```اس حدیث میں اسحاق راوی کو شک ہو گیا کہ ان کے استاد نے تماثیل اور صورة دونوں میں سے کیا کہا؟ انہیں یاد نہیں ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔```
*جامــع تـرمـزی 2805
🌹بِســــــــــمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ🌹*
*•●◉✧صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب✧◉●•*
*●✧صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدﷺ✧●*
*●✧صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیہ وَاٰلِهِ وَبَارِکْ وَسَــِلّمْ✧●*
*🔰 جنت کی سدا بہار زندگی*
*عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ:*
*مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَايَبْؤُسُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَ لَايَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَاعَيْنٌ رَأَتْ وَ لَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَ لَاخَطَرَ عَلٰى قَلْبِ بَشَرٍ.*
*(دارمي، السنن، رقم الحدیث: 2854)*
*حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:*
*جو شخص جنت میں جائے گا عیش کرے گا، اُسے کوئی غم نہ ہوگا، نا اُس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے، نہ اُس کے شباب کو زوال آئے گا اور اُس کیلئے جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور کسی بشر کے دل میں بھی اُن کا خیال تک نہ آیا ہوگا۔*
*(دارمي، السنن، كتاب الرقاق، باب مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لاَ يَبْؤُسُ، رقم الحدیث: 2854)*
💌حضرت ابو موسی رضیاللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*"نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سےایک نہ ایک ضرور پالو گے یاتو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم ازکم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے گھر کو یا کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبوتو اس سے تم ضرور پالو گے"*
_📖[صحیح بخاری:2101]_
📣دوستوں کے انتخاب میں محتاط رہیں۔۔۔کیونکہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے مطلب۔۔۔یہ کہ ہمارا کردار،ہمارا اخلاق دوستوں کی تربیت سے متاثر ہوتا ہے
✨دوست ایسے ہوں جو ہمارے لیے اطاعت الہی کا راستہ آسان کرے
Comments
Post a Comment