رمضان کریم کے آخری دس دن تین اعمال کااہتمام ضرور کریں
لیلۃ القدر ۔ شب قدر
سال میں ایک رات 83 سال کی عبادت کا ثواب
رمضان کریم کے آخری دس دن تین اعمال کااہتمام ضرور کریں
(1) ہر رات 1 روپیہ یا جتنی استطاعت ہو سکے ۔۔۔خیرات کریں۔۔۔
جس رات لیلۃ القدر ہو گی وہ ایک روپیہ کی خیرات ایسی ہو جائیگی جیسے آپ نے 83 سال تک خیرات کی ہو ۔
(2) ہر رات 2 رکعت یا جتنی ہو سکے نماز ادا کریں۔
جس رات لیلۃ القدر ہو گی وہ نماز ایسی ہو جائیگی جیسے کہ آپ نے 83 سال عبادت کی ہو۔
(3) ہررات 3 بار سورۃ اخلاص ضرور پڑھیں ۔
جس رات لیلۃ القدر ہو گی وہ تلاوت ایسی ہو جائیگی گویا 83 سال روزانہ ایک قرآن پڑھا ہو۔
آخری طاق رات

*لیلته القدرکیا ہے*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
☘ جس میں فرشتے اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں
☘ وہ رات جس میں روح الامین حضرت جبرائیل علیہ اسلام اترتے ہیں
☘وہ رات جو برکتوں والی ہے
☘وہ رات جو سراسر سلامتی ہے
( القدر )
🌹لیلته القدر ہزار مہینوں سے بہتر ایک رات ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن نازل کیا گیا
✨✨✨✨✨✨✨
*لیلته القدر کے بارے میں رسول صلی اللہ علیه وسلم نے کیا ہدایات دی ہیں*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو رسول صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا " تمہارے پاس یہ مہینہ آگیا ہے اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینے سے افضل ہے جو اس رات ( کا ثواب حاصل کرنے) سے محروم رہا وہ ہر بهلائی سے محروم رہا اس کے خیر سے وهی محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہے" (ابن ماجہ)
✨✨✨✨✨✨✨
*نبی صلی اللہ علیه وسلم کا طرز عمل*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ نبی صلی اللہ علیه وسلم کے طرز عمل کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں "جب رمضان کا آخری عشرہ آتا آپ صلی اللہ علیه وسلم اپنا تہبند مضبوط باندهہ لیتے یعنی اپنی کمر کس لیتے تهے
ان راتوں میں خود بهی جاگتے اور اپنے گهر والوں کو بهی جگاتے تهے" (بخاری)
✨✨✨✨✨✨✨
*کیا لیلته القدر کو تلاش کرنا چاہیے*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ *رسول صلی الله علیه وسلم نے فرمایا "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو"*
( بخاری )
☘ ہمیں چاہیے کہ آخری عشرے میں خصوصی عبادات کا اہتمام کریں
❣صرف *27 شب* کو نہیں بلکہ تمام طاق راتوں میں
🔺 *طاق راتوں سے مراد 29،27،25،23،21 یہ پانچ راتیں ہیں*
🎯 ان میں ہم نے یکساں عبادت کرنی
ہے
✨✨✨✨✨✨✨
*اس رات میں کرنے والے کام کون سےہیں*
✨✨✨✨✨✨✨
📌 شب قدر کا قیام
📌قرآن کی تلاوت
📌 صدقہ و خیرات
📌 دعائیں
📌 ذکر
🌟🌙🌟🌙🌟🌙🌟
تیسری طاق رات
اسم الاعظم
وہ کلمات جنکے پڑھنے سے دعائیں قبول ہوتی ہیں
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ أَنِّیْ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد*
اے الله! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا تو ہی الله ہے، تیرے سوا کوئی اله نہیں تو ایک ہے، بے نیاز ہے، ایسی ذات ہے جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی وہ جنم دیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔
*اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ*
اے الله! بے شک میں تجھ سے (اس وسیلے سے) مانگتا ہوں کہ ساری حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ بہت زیادہ احسان کرنے والا آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا، (اے) جلال اور اکرام والے!
*لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ*
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔
*اَللّٰهُمَّ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ
ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ*
اے الله !تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو بہت ہی احسان کرنے والا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے (اے) جلال اور اکرام والے!
*لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ*
الله کے سوا کوئی الٰہ نہیں
*لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ،وَهُوَعَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر، اَلْحَمْدُ للهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ*
الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ سب تعریف الله ہی کے لیے ہے، الله پاک ہے، الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور الله سب سے بڑا ہے اور الله کی مدد کے بغیر نہ (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت۔ اے الله مجھے معاف کردے۔
اسی طرح بعض مفسرین *یاحي يا قيوم* کو اسم اعظم بتاتے ہیں
لیلۃ القدر
لیلۃ القدر سال كی سب سے جلیل القدر رات ہے، اس كے بے شمار فضائل ہیں، اللہ تعالی نے خود قرآن كریم میں ایک سے زائد مقامات پر اس رات كی فضیلت بیان فرمائی ہے، بلكہ ایک پوری سورت، سورت القدر صرف اور صرف اس رات كی فضیلت میں نازل فرمادی۔
اس رات كے چند فضائل درج ذیل ہیں:
1⃣ اس میں قرآن كریم نازل ہوا، (یعنی نزول كا آغاز ہوا، اور پورا قرآن آسمان دنیا پر نازل ہوا)۔
2⃣ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لہذا جس نے اس ایک رات كی عبادت كو پالیا اس نے ہزار مہینوں سے بھی زیادہ كی عبادت كو پالیا۔
3⃣ اس رات میں فرشتے اپنے سردار حضرت جبریل علیہ السلام كے ساتھ نازل ہوتے ہیں، جو رحمت وبركت كی عظیم نشانی ہے۔
4⃣ یہ رات سراسر سلامتی ہے۔
سورت القدر میں اللہ تعالی كا ارشاد ہے:
(ترجمہ) " شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان ہے، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا چیز ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (یعنی جبریل) اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔"
5⃣ یہ مبارک رات ہے. ارشاد باری تعالی ہے:
(ترجمہ) "حم، قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے، کہ یقینا ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ (کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔"
(سورۃ الدخان: 1-3)
6⃣ اس میں پورے سال كی تقدیر یا تمام معاملات كے فیصلے لوح محفوظ سے نكال كر فرشتوں كو سونپ دئے جاتے ہیں، اللہ تعالی كا ارشاد ہے:
" اسی رات میں ہر حکیمانہ معاملہ ہمارے حکم سے طے کیا جاتا ہے۔ (یا تقسیم كیا جاتا ہے)"
(سورۃ الدخان: 4)
7⃣ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لئے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔"
(بخاری: 1901، مسلم:760)
لیلۃ القدر آخری عشرے كی طاق راتوں میں سے ایک ہے: ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ كی لمبی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
(بخاری: 2016، مسلم:1167)
یہی بات دیگر صحابہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل كی ہے۔ نیز مختلف روایات میں ان طاق راتوں میں سے كچھ كی تخصیص بھی آئی ہے، ان تمام روایات كو جمع كركے بعض علماء اس نتیجے پر پہنچے ہیں كہ لیلۃ القدر آخری عشرے كی طاق راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
لیلۃ القدر كی فضیلت كا حصول محض جاگ كر نہیں ہوسكتا، بلكہ گپ شپ وغیرہ میں محض جاگ كر رات گزارنا تو اس رات كا ضیاع اور ناقدری ہے، اس فضیلت كا حصول عبادات اور نیكی كے كاموں میں مشغول رہ كر اور خوب محنت كركے ہی ہو سكتا ہے، لہذا ان راتوں میں نوافل، تلاوت اور مطالعۂ قرآن، ذكر، دعاء اور صدقے وغیرہ كا خوب اہتمام كرنا چاہئے، اور عبادت میں خشوع وخضوع لانے كی كوشش اور اللہ كے سامنے عاجزی وگریہ وزاری كرنی چاہئے۔
ليلۃ القدر كی خاص دعا:
ام المؤمنین عائشہ (رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : " پڑھو
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»
" اے اللہ ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے ، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے "۔
(ترمذی: 3513)
اللہ تعالٰی ہم کو صحیح سمجھ کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق دے آمین.
تیری(عبادت) میں یا رب میری آنکھوں پر ظاہر ہونے والی سیاہی کچھ بھی نہیں ہے
’’یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے ۔‘‘
تلاوتِ قرآن کی فضیلت ،اہمیت اور ثواب
روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں سفارش کریں گے
روزہ کہے گا اے میرے رب میں نے اسے دن بھر بھوکا پیاسا رکھا اس کے حق میں میری سفارش قبول کریں
اور قرآن کہے گا اے میرے رب میں نے اسے راتوں کے آرام کو روک دیا تھا۔۔
اس کے حق میں میری سفارش قبول کی جائے۔۔۔۔
دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔۔(مشکوۃ المصابیح:1963)
تو تیاری کر لیں اپنے سفارشیوں کے لیے۔۔۔
قرآن مجید اللّه تعالیٰ کی وہ آخری اور مستند ترین کتاب ہے جسے دین کے معاملے میں انسانیت کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللّه صلى الله عليه وسلم پر نازل کیا گیا ہے ۔اِس کتاب ہدایت سے استفادہ انسان تب ہی کر سکتا ہے جب وہ اِسے پڑھے گا ، اِس کی تلاوت اور اِس کا مطالعہ کرے گا ۔
چنانچہ یہ بات تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تلاوتِ قرآن دین میں ایک نہایت ہی پسندیدہ اور مطلوب عمل ہے ۔جب دین میں اِس عمل کی حیثیت یہ ہے تو لامحالہ ایک مسلمان کے لیے یہ اجر وثواب کا باعث بھی ہے ۔تاہم یہ واضح رہے کہ کسی نیک عمل کی بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت اور اُس کے باعثِ اجر وثواب ہونے کا تعلق تو ظاہر ہے کہ عمل کرنے والے کی نیت پر مبنی ہے
جیساکہ نبی صلی اللّه علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے (بخاری )
چنانچہ تلاوت قرآن میں نیت واردہ اگر خالصتاً فہم قرآن ،طلب ہدایت اور اللّه تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول ہے تو پھر یہ عمل یقیناً بہت باعث اجر ہو گا ۔آئیے ! تلاوت قرآن کی فضیلت کے بارے میں احادیث رسول اللّه صلی اللّه علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔
تلاوت قرآن کی فضیلت احادیث کی روشنی میں:
حضر ت ابوامامہ رضی اللّه عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللّه صلى الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن کثرت سے پڑھا کرو، اس لیے کہ قیامت والے دن یہ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔(مسلم)
اس میں قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت کا بیان ہے ، کیونکہ عمل کے بغیر محض خوش الحانی سے پڑھ لینے کی اللّه کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہوگی ، سفارشی کا مطلب ہے کہ اللّه تعالی قرآن مجید کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور وہ اپنے قاری اور عامل کے گناہوں کی مغفرت کا اللّه سے سوال کرے گا ‘ جسے اللّه قبول فرمائے گا ۔
عثمان بن عفان رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے۔(بخاری )
اس میں قرآن کریم کی تعلیم وتعلم یعنی خود سیکھنے اور دوسروں کو اللّه کی رضا کے لیے سکھلانے کی فضیلت ہے ۔
حضرت عمربن الخطاب رضی اللّه عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا:اللّه تعالی اس کتاب (قرآن مجید )کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ھدایت آتا فرمائے گا اور اسی کتاب قرآن کی وجہ سے بوہت سارے لوگوں کو ذلیل کردے گا ۔(مسلم )
ھدایت پے وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کے احکام کو بجا لائیں گے اوراس کی حرام کردہ چیزوں ںسے اجتناب کریں گے
اوراس کے برعکس کردار کے لوگوں کے لیے بالآخر ذلت و رسوائی ہی ہے ۔
چنانچہ مسلمانوں کو اللّه نے ابتدائی چند صدیوں میں ہر جگہ سرخرو کیا اور انہیں سرفرازیاں عطا کیں، کیوںکہ وہ قرآن کے حامل اور عامل تھے ‘ اس پر عمل کی برکت سے وہ دین و دنیا کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوئے ۔ لیکن مسلمانوں نے جب سے قرآن کے احکام و قوانین پر عمل کرنے کو اپنی زندگی سے خارج کر دیا تب سے ہی ان پر ذلت و رسوائی کا عذاب مسلط ہے
۔ کاش مسلمان دوبارہ قرآن کریم سے اپنا رشتہ جوڑیں تاکہ ان کی عظمت رفتہ بحال ہو سکے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللّه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا:بیشک وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ(یاد) نہ ہو ، وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔یعنی جیسے ویران گھر خیر و برکت اور رہنے والوں سے خالی ہوتا ہے، ایسے ہی اس شخص کا دل خیر و برکت اور روحانیت سے خالی ہوتا ہے جسے قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ یاد نہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کو قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور زبانی یاد کرنا کرنا چاہیے تاکہ وہ اس وعید سے محفوظ رہے ۔
رسول اللّه صل اللّه علیہ وسلم نے فرمایا: تم قرآن پڑھو اس لئے کہ قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا۔( مسلم )
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ قرآن کی سفارش کو قبول کیا جائے گا۔ قرآن کو پڑھنے کے بعد اس کو اپنی عملی زندگی میں لانے والوں کے لئے بھی جھگڑا کرے گا اور نجات دلائے گا۔رسول اللّه صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:” قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے جو اس پر عمل کرتے تھے ، ان کو لایا جائے گا۔توسورة بقرہ اور آل عمران پیش پیش ہوں گی اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔( مسلم )
قرآن کو جو لوگ مظبوطی سے تھام لیتے ہیں تو اللّه تعالیٰ ان کو بلند کر دیتا ہے ۔ وہ دنیا میں بھی عزت حاصل کرتا ہے اور آخرت میں جنت میں داخل ہو گا۔ ان شا ء اللّه
جو قرآن کی تلاوت اور تعلیمات سے دور ہوتے ہیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی اور چاہت سے بسر کرتے ہیں تو پھر ایسوں کو اللّه ذلیل و خوار کر دیتا ہے
تلاوت قرآن کرنے والے کے تین درجات:
میرے نزدیک بالخصوص غیر عرب مسلمانوں میں قرآن مجید کو پڑھنے والے بالعموم تین طرح کے ہوتے ہیں ۔
ایک وہ جو قرآن کی زبان سے آشنا ہیں اور اُس کے اصل متن کی سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ تلاوت قرآن کی سب سے بہتر صورت ہے
۔دوسرے وہ جو قرآن کی لغت سے تو واقف نہیں ہیں،تاہم اِس کتاب ہدایت کو سمجھنے اور اِس سے استفادہ کی خواہش رکھتے ہیں ، چنانچہ وہ اپنی زبان میں موجود تراجمِ قرآن کی مراجعت کرتے ہیں۔اور یہ پہلی صورت سے ایک درجہ کم ہے
۔تیسرے وہ جو قرآن کی زبان کو جانتے ہیں ، نہ ان کے پیش نظر اُسے سمجھنا ہی ہوتا ہے ۔بلکہ وہ بغیر طلب فہم کے محض الفاظ قرآن کو عربی ہی میں اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں۔یہ میرے نزدیک تلاوت قرآن کا تیسرا درجہ ہے ۔
تلاوت قرآن کے فوائد احادیث کی روشنی میں:
٭جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک آفتاب سے بڑھ کر ہو گی۔
٭ قرآن پاک دیکھ کر پڑھنے میں دوہرا ثواب ملتا ہے اور بغیر دیکھ کر پڑھنے میں ایک ثواب ہے
۔ نوٹ:۔ چند چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے ۔ قرآن کعبہ، کعبہ معظمہ، ماں باپ کا چہرہ محبت سے اور عالم دین کی شکل دیکھنا عقیدت سے وغیرہ وغیرہ
٭قرآن پاک کی تلاوت اور موت کی یاد دل کو اس طرح صاف کر دیتی ہے جیسے کہ زنگ آلود لوہے کو صیقل۔
٭جو شخص کہ قرآن پاک کی تلاوت میں اتنا مشغول ہو کہ کوئی دعا نہ مانگ سکے تو اللّه تعالٰی اس کو مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہے ۔ ( الحدیث )
Comments
Post a Comment