مسیلمہ کذاب نے نبی پاک  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خط لکھا کہنے لگا

مسیلمہ کذاب نے نبی پاک  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خط لکھا کہنے لگا
Published from Blogger Prime Android App
 میرے ساتھ ایک  معاہدہ کر لیں 

 جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں آپ نبی ہیں

جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی۔۔۔ 

یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی آدھے عرب کا میں نبی۔۔۔  معاذاللہ

اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا  میں تو اللہ کا رسول ہوں 

جب کہ تو کذاب ہے۔۔۔جھوٹا ہے۔۔۔

جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے 

کون لے کے جاٸے گا یہ خط اسکے دربار میں ۔۔

اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں 

اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے۔۔

ایک صحابی تھے چابڑی فروش۔۔۔۔

سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے۔

گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے۔

کجھور کھا رہے تھے فٹافٹ اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا ۔۔۔

حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگانا میں جاونگا 

جب یہ لفظ کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے صحابہ کے چہروں پر گرے۔۔

 ایک صحابی کہنے لگا پہلے کھجور تو کھالے 

بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی۔۔

کہنے لگے اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گٸی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے۔۔

حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایاذرہ ڈٹ کے جانا اس کے گھر۔

وہ صحابی کہنے لگے محبوب آپ فکر ہی نا کریں۔

صحابہ کہتے ہے وہ  اس طرح نکلا جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے,

اسکا انداز ہی بدل گیا اس کے طور طریقے بدل گٸے وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے۔

وہ صحابی مسیلمہ کے دربار میں گٸے

 وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے

 جب وہ صحابی جن کا نام حضرت حبیب بن زید تھا جب  وہاں دربار میں پہنچے

 تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑا,

مسیلمہ کہتا ہے کون ہو؟

آپ فرمانے لگے تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا

 کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو۔

ہمارے تو چہرے بتاتے ہے کہ نبیﷺ والے ہے۔۔۔

تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں۔

 مسیلمہ کہنے لگا کیسے آٸے ہو 

فرمایا یہ تیرے خط کا جواب لے آیا ہو,

بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے

 ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا 

تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ پڑھو۔۔

جب اس نے خط پڑھا تو لکھا تھا تو کذاب ہے

یہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی 

وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں 

سامنے حضرت حبیبؓ کھڑے تھے

اٹھا اور تلوار لے کے کہنے لگا

تیرے نبی نےمجھے کذاب کہا ہے تیرا کیا خیال ہے۔

حبیب فرمانے لگے خیال والی بات ہی کوٸی نہیں

 جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے

تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ  نہیں دھل سکتا,

مسیلمہ کہنے لگا تو پیچھے پلٹ کے دیکھ 

سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار ہے

 تلوایں,نیزے,خنجر,تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں ۔۔

حضرت حبیب بن زید فرمانے لگے 

میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہے جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا۔

میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا 

تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے 

تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,

جو جی میں آتا ہے کر غلام محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے۔۔۔

مسیلمہ اٹھا اس نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا

 کہنے لگا اب بول اب تیرا کیا خیال ہے

آپ فرمانے لگے تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزمارتا ہے 

ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں 

تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے

میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا

پھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیا

 کہنے لگا میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا 

آپ فرمانے لگے تو بڑا نادان ہے ان کو ڈراتا ہے

جو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں 

 جو کرنا ہے کر لے اس نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا میں تیری گردن  کاٹ دونگا۔۔۔

حبیب فرمانے لگے کاٹتا کیوں نہیں۔۔۔

روایت کرنے والا فرماتا ہے 

مسلمہ کے ہاتھ کانپے تھے۔

تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی 

ادھر گردن کٹی ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے 

صحابیوں نے پوچھا    یا رسول اللہ کیا ہوا 

فرمایا میرا حبیب شہید ہو گیا ہے

اور رب کریم نے اس کے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دٸے ہے۔۔۔

(أسد الغابہ ابن الاثیر)
ختمِ نبوّت زندہ باد

Comments

Popular posts from this blog

ایک صحابی نے رسول صلی اللّٰه  علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا ایک پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام ! حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے