*تین رمضان المبارک* *یوم وصال حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا
*تین رمضان المبارک**یوم وصال حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نام "فاطمہ" اس لیے رکھا گیا کہ اس نام کے معنی بہت گہرے اور معنوی ہیں۔ عربی زبان میں "فاطمہ" کا مطلب ہے "جسے جدا کیا گیا ہو" یا "جسے الگ کیا گیا ہو"۔ یہ نام ان کی عظمت اور تقدس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نام "فاطمہ" اس لیے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کی اولاد کو جہنم کی آگ سے الگ اور محفوظ رکھا ہے۔ یہ نام ان کی پاکیزگی اور روحانی بلندی کی علامت ہے۔
اس کے علاوہ، "فاطمہ" نام کے حروف اور اس کی عددی قدر (حسابِ ابجد) بھی اسلامی تعلیمات میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ نام ان کی شخصیت کی عظمت اور ان کے مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چہیتی بیٹی تھیں اور ان کا نام ان کی خصوصیات اور مقام کے مطابق رکھا گیا تھا۔
*یوم وصال حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا*
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی تھیں۔۔۔۔۔
آپ رضی اللہ عنہا کی پیدائش اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے مکہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی۔۔۔۔۔
(( شرح الزرقانی ))
آپ رضی اللہ عنہا کی پرورش کسی دائی نے نہیں کی بلکہ خود حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کی تھی۔۔۔۔
(( تاریخ دمشق ))
راہ خدا میں خرچ کرنا آپ کو بہت پسند تھا اور آپ کی یہ شان قرآن کریم میں بھی بیان ہوئی۔۔۔۔۔
2ھ میں آپ کا نکاح مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ہوا ،، ایک روایت کے مطابق وہ صفر کا مہینہ تھا۔۔۔۔۔
آپ رضی اللہ عنہا کا حق مہر 500 چاندی کے سکے تھا جو آج کی مالیت کے مطابق چار لاکھ روپے سے زائد رقم بنتی ہے۔۔۔۔۔
آپ کے تین بیٹے حسن ، حسین اور محسن جبکہ تین بیٹیاں رقیہ ، ام کلثوم اور زینب تھیں۔۔۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد 3 رمضان المبارک کو آپ کا وصال ہوا۔۔۔۔۔
(( مدارج النبوہ ))
آپ رضی اللہ عنہا کے جنازے کے بارے میں مختلف روایات ہیں بعض نے نزدیک حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے پڑھایا بعض کے نزدیک مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے پڑھایا جبکہ صحیح قول کے مطابق آپ کا نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا۔۔۔۔۔
(( کشف الباری ))
*حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نام فاطمہ کیوں رکھا گیا؟؟؟*
فاطمہ لفظ کا مصدر فطم ہے جس کے معنی ہے ""دور ہونا"" چونکہ اللہ رب العزت نے آپ کو آپ کی اولاد کو اور آپ سے عقیدت و محبت رکھنے والے کو دوزخ کی آگ سے درو کیا ہے اس لئے آپ کا نام فاطمہ رکھا گیا۔۔۔۔۔
یہ نام رکھنے کی حکمت کے بارے میں خود سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا "" اِنَّمَا سُمِّیَتْ فَاطِمَۃُ لِاَنَّ اللہَ فَطَمَھَا وَمُحِبِّیْھَا عَنِ النَّارِ"" فاطمہ نام اس لئے رکھا گیا کہ اللہ نے اسے اور اس سے محبت کرنے والے کو نار جہنم سے آزاد کیا ہے۔۔۔۔۔
(( کنز العمال رقم الحدیث 34222 ))
Comments
Post a Comment